(آڑو ایک لذیذ پھل اور قدرتی دوا) Peach – A Delicious Fruit and Natural Remedy

(آڑو ایک لذیذ پھل اور قدرتی دوا)  Peach – A Delicious Fruit and Natural Remedy

آڑو ایک نہایت مشہور، خوش ذائقہ اور کثیرالفوائد پھل ہے جو دنیا کے مختلف حصوں میں شوق سے کھایا جاتا ہے اور صدیوں سے طبِ یونانی اور دیسی علاج میں استعمال ہو رہا ہے۔ ذائقے کے اعتبار سے آڑو میٹھا اور ہلکا سا ترش ہوتا ہے جو اسے دوسرے پھلوں سے ممتاز بناتا ہے۔ فارسی زبان میں اسے شفتالو، عربی میں خوخ،

سندھی میں بھی شفتالو جبکہ انگریزی میں Peach کہا جاتا ہے۔ نباتاتی لحاظ سے اس کا سائنسی نام Prunus persica ہے اور یہ ایک درمیانے قد کے درخت پر لگنے والا پھل ہے جو عموماً معتدل اور نیم گرم علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے۔ آڑو کی شکل و صورت دلکش ہوتی ہے اور اس کی خوشبو بھی خاصی فرحت بخش ہوتی ہے، اسی وجہ سے یہ نہ صرف بطور غذا بلکہ جوس، سلاد اور مختلف میٹھے پکوانوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔


https://hakeems.pk/user/


طبِ یونانی کے مطابق آڑو کا مزاج سرد تر ہے، یعنی یہ جسم کی زائد حرارت کو کم کرنے اور ٹھنڈک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گرمی کے موسم میں آڑو کا استعمال خاص طور پر مفید سمجھا جاتا ہے۔ یہ جوشِ خون اور صفرا کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور ان افراد کے لیے فائدہ مند ہے جن کا مزاج گرم ہو یا جنہیں گرمی، جلن اور پیاس کی شکایت رہتی ہو۔ آڑو کھانے سے پیاس کی شدت کم ہوتی ہے، منہ کی خشکی دور ہوتی ہے اور جسم میں تازگی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ گرم مزاج افراد میں یہ بھوک کو بڑھاتا ہے اور معدے کو وقتی سکون فراہم کرتا ہے، تاہم کمزور معدے والے افراد کو اسے احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔

اگر غذائیت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو آڑو جلد ہضم ہونے والا پھل ہے، لیکن اس سے حاصل ہونے والی غذائیت زیادہ مضبوط نہیں ہوتی۔ اسی لیے حکما کا کہنا ہے کہ آڑو کو زیادہ مقدار میں مسلسل کھانا جسم کو کمزور کر سکتا ہے، خصوصاً اعصاب پر اس کا منفی اثر پڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اسی بنا پر آڑو کو ہمیشہ اعتدال میں کھانا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر روزانہ تین سے پانچ عدد آڑو مناسب مقدار تصور کیے جاتے ہیں۔ اس کے ممکنہ مضر اثرات کو کم کرنے کے لیے شہد یا ادرک کے ساتھ استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، جس سے اس کی سرد تاثیر میں توازن پیدا ہو جاتا ہے۔

آڑو صرف ایک پھل ہی نہیں بلکہ اس کے دیگر حصے بھی طب میں استعمال ہوتے ہیں۔ آڑو کے پتے طبِ یونانی میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ان پتوں کا پانی کرمِ شکم یعنی پیٹ کے کیڑوں کو ختم کرنے کے لیے اندرونی طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ بیرونی طور پر اسی پانی کو پیٹ پر ضماد کی صورت میں لگایا جاتا ہے۔ بعض روایتی طریقہ علاج میں بچوں کے چرنوں یعنی آنتوں کے کیڑوں کو ختم کرنے کے لیے آڑو کے پتوں کا استعمال کیا جاتا ہے، تاہم اس قسم کے استعمال میں ماہر حکیم یا معالج کا مشورہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔

اسی طرح آڑو کے بیج کا مغز، جسے مغزِ تخمِ آڑو یا شفتالو کہا جاتا ہے، مختلف یونانی ادویات میں شامل ہوتا ہے۔ یہ مغز بواسیر، دردِ گوش اور بعض صورتوں میں بہرے پن کے علاج میں استعمال کیا جاتا ہے۔ حکما کے مطابق اس میں درد کو سکون دینے اور سوزش کو کم کرنے کی خاصیت پائی جاتی ہے، مگر چونکہ یہ طاقتور اثر رکھتا ہے، اس لیے اس کا استعمال بھی محدود مقدار میں اور طبی رہنمائی کے تحت ہونا چاہیے۔


https://hakeems.pk/user/


مجموعی طور پر آڑو ایک ایسا پھل ہے جو ذائقہ، خوشبو اور افادیت تینوں اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے۔ مناسب مقدار میں اور درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ جسم کی حرارت کو کم کرتا ہے، پیاس بجھاتا ہے، سکون اور تازگی بخشتا ہے اور کئی جسمانی مسائل میں فائدہ پہنچاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آڑو کو نہ صرف ایک لذیذ موسمی پھل بلکہ ایک قدرتی دوا بھی کہا جاتا ہے۔


https://hakeems.pk/user/

Main Image Cover Image

Comment (0)

    No comments found.

Post a comment