آس (Myrtle / Myrtus communis): یونانی طب میں ایک اہم دوا، فوائد، افعال اور طبی استعمال
تعارف
آس ایک قدیم اور معروف دوا دار درخت ہے جسے طبِ یونانی، طبِ عربی اور دیسی علاج میں صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ درخت اپنی خوشبو، افادیت اور کثیر المقاصد طبی خصوصیات کی وجہ سے خاص مقام رکھتا ہے۔ اس کا سائنسی نام Myrtus communis ہے۔ عربی زبان میں اسے حبّ الآس کہا جاتا ہے، انگریزی میں Myrtle اور جرمن زبان میں Myrte کے نام سے جانا جاتا ہے۔
آس ایک سدا بہار اور خوشبودار درخت ہے جس کے پتے، پھل اور تخم تینوں حصے طب میں مستعمل ہیں۔ یونانی اطباء کے نزدیک یہ دوا خصوصاً معدہ، قلب، آنتوں اور جلدی امراض میں نہایت مفید سمجھی جاتی ہے۔
درخت اور پھل کی ماہیت
آس ایک درمیانے قد کا مضبوط اور گھنا درخت ہوتا ہے جو عموماً گرم اور معتدل علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کی شاخیں باریک اور پتے گہرے سبز رنگ کے ہوتے ہیں جن سے خوشبو آتی ہے۔
اس کا پھل سیاہ یا سیاہی مائل نیلے رنگ کا ہوتا ہے، جو شکل میں سیاہ مرچ سے کچھ بڑا ہوتا ہے۔ ذائقے کے اعتبار سے یہ ہلکا سا میٹھا مگر خاصی قابض تاثیر رکھتا ہے۔ اس پھل کے اندر عموماً سات سے آٹھ چھوٹے، ہموار اور چکنے تخم پائے جاتے ہیں جو طبی لحاظ سے اہم مانے جاتے ہیں۔
پھل کو حبّ الآس، اس کے تخم کو تخمِ مئورد اور پتے ورقِ آس یا برگِ مئورد کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔
مزاج
یونانی اصولوں کے مطابق آس کا مزاج سرد و خشک ہے، اسی وجہ سے یہ گرم امراض، رطوبات کے اخراج اور خون کے غیر ضروری بہاؤ کو روکنے میں مفید سمجھی جاتی ہے۔
افعال
حبّ الآس کے افعال میں سب سے نمایاں اس کی قابض خاصیت ہے۔ یہ خون کو روکنے والی دوا ہے اور جسم سے غیر ضروری رطوبات کے اخراج کو کم کرتی ہے۔ پسینہ زیادہ آنے کی صورت میں اسے حابسِ عرق کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ معدہ کو طاقت دیتی ہے، ہاضمہ درست کرتی ہے اور خاص طور پر قلب کو تقویت پہنچاتی ہے۔ دستوں اور اسہال کو روکنے کے لیے بھی اسے نہایت مؤثر مانا گیا ہے۔
برگِ مئورد یعنی آس کے پتے مسکن اور مجفف اثر رکھتے ہیں۔ یہ درد کو کم کرتے ہیں، ورم کو خشک کرتے ہیں اور جلد و بالوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ یونانی اطباء کے نزدیک یہ پتے بالوں کی جڑوں کو طاقت دے کر انہیں مضبوط، گھنا اور صحت مند بناتے ہیں۔
استعمالات
حبّ الآس کو دستوں، پیچش اور اسہال میں استعمال کیا جاتا ہے، خاص طور پر جب آنتوں میں رطوبت زیادہ ہو۔ ہر قسم کے سیلانِ خون مثلاً بواسیر، حیض کی زیادتی یا زخموں سے خون بہنے کی صورت میں اسے مفید مانا گیا ہے۔ پسینہ زیادہ آنے کی شکایت میں حبّ الآس کو باریک پیس کر بدن پر ملنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ ضعفِ قلب، دل کی دھڑکن اور خفقان میں بھی یہ دل کو تقویت دے کر سکون فراہم کرتی ہے اور معدے کی کمزوری کو دور کرتی ہے۔
برگِ مئورد کو جلے ہوئے مقامات، گرم ورم اور درد والی جگہوں پر بطور ضماد لگایا جاتا ہے جس سے درد اور جلن میں کمی آتی ہے۔ دردِ سر میں اس کے پتوں کا استعمال سکون کا باعث بنتا ہے۔ بغل میں پسینہ زیادہ آنے یا بدبو کی شکایت میں اسے لگانے سے بدبو زائل ہو جاتی ہے۔ بالوں کو مضبوط کرنے، گرنے سے بچانے اور قدرتی سیاہی برقرار رکھنے کے لیے اسے خضابوں میں شامل کیا جاتا ہے۔
مشہور مرکب
شربتِ حبّ الآس طبِ یونانی کا ایک معروف اور آزمودہ شربت ہے۔ یہ خاص طور پر دستوں کو روکنے، خون کے بہاؤ کو قابو میں رکھنے اور معدہ و قلب کو طاقت دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کمزوری کے مریضوں میں یہ شربت خاص فائدہ دیتا ہے۔
مضر اثرات
اگر حبّ الآس کو ضرورت سے زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے تو بعض اوقات ورم، دردِ سر اور بے خوابی جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ کچھ افراد میں اس کی خشکی کی وجہ سے قبض یا جسم میں خشکی بڑھ سکتی ہے، اس لیے اعتدال ضروری ہے۔
مصلح
آس کے ممکنہ مضر اثرات کو کم کرنے کے لیے رسوت اور برگِ توت بطور مصلح استعمال کیے جاتے ہیں۔ اگر اصل دوا دستیاب نہ ہو تو بیخِ انجبار کو اس کے بدل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مقدار خوراک
حبّ الآس کی مناسب مقدار خوراک تین ماشہ سے پانچ ماشہ تک ہے، جو مریض کی کیفیت، عمر اور مرض کے مطابق مقرر کی جاتی ہے۔
No comments found.