الٹ کمبل (Devil’s Cotton) — جامع تعارف، کیمیائی پہلو، طبی فوائد اور احتیاطی نکات
اردو نام: الٹ کمبل
انگریزی نام: Devil’s Cotton
لاطینی نام: Abroma augusta
(بعض قدیم حوالوں میں Abroma / Augusta کے نام سے بھی مذکور)
نباتاتی تعارف اور شناخت
الٹ کمبل ایک متوسط قامت، جھاڑی دار اور نیم سایہ پسند پودا ہے جو عموماً گرم، مرطوب اور نیم استوائی خطوں میں نشوونما پاتا ہے۔ اس کے پتے بڑے، چوڑے اور قدرے کھردرے ہوتے ہیں جبکہ نچلی سطح پر باریک روئیں پائے جاتے ہیں۔ یہی روئیں اسے لمس میں مخملی بناتے ہیں۔
اس کی ٹہنیاں نرم، ریشہ دار اور روئیں دار ساخت رکھتی ہیں۔ بہار کے موسم میں اس پر گہرے سرخ یا گلناری رنگ کے نمایاں پھول کھلتے ہیں۔ پھولوں کی ساخت منفرد ہوتی ہے؛ یہ نیچے کی طرف جھکے ہوئے ہوتے ہیں اور پنجہ نما انداز رکھتے ہیں۔ اسی ظاہری ساخت کی بنا پر اسے “الٹ کمبل” کہا جاتا ہے۔
پھل کی ساخت پانچ خانوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ جب پھل پک جاتا ہے تو خود بخود شگاف کھا لیتا ہے اور اندر سے روئی نما ریشے ظاہر ہوتے ہیں۔ بیج سیاہ، سخت اور تخمِ مولی سے مشابہ ہوتے ہیں۔
جغرافیائی پھیلاؤ اور کاشت
یہ پودا برصغیر کے گرم علاقوں میں بکثرت پایا جاتا ہے، خصوصاً اتر پردیش، سکم، آسام اور مشرقی ہمالیائی خطوں میں۔ مرطوب آب و ہوا اور نیم سایہ دار زمین اس کی افزائش کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے۔
زینتی خصوصیات کی بنا پر اسے باغات میں بھی لگایا جاتا ہے، تاہم طبی استعمال کے لیے زیادہ تر جنگلی یا نیم جنگلی اقسام کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ ان میں مؤثر اجزاء کی مقدار نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔
کیمیائی اجزاء اور جزوِ مؤثرہ
روایتی طب کے مطابق اس کی تازہ چھال اور جڑ میں ایک لیس دار مادہ پایا جاتا ہے جسے اس کا جزوِ مؤثرہ تصور کیا جاتا ہے۔ جدید تحقیق میں اس پودے میں الکلائیڈز، گلوکوسائیڈز اور بعض حیاتیاتی فعال مرکبات کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے، جو ہارمونل نظام پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تازہ جڑ یا چھال سے تیار کردہ جوشاندہ خشک مادہ کے مقابلے میں زیادہ مؤثر مانا جاتا ہے کیونکہ اس میں فعال اجزاء کی مقدار زیادہ محفوظ رہتی ہے۔
مزاج اور حکمی تجزیہ
حکمت کے اصولوں کے مطابق اس کا مزاج معتدل تا قدرے گرم سمجھا جاتا ہے۔ یہ رحم اور اعصابی نظام پر اثر انداز ہوتی ہے۔ بعض اطباء کے نزدیک یہ محرکِ رحم (Uterine Stimulant) اور منظمِ حیض دوا کے طور پر کام کرتی ہے۔
یہ دوا جسم میں دورانِ خون کو متوازن کرنے اور تولیدی نظام کی فعالی کو بہتر بنانے میں معاون سمجھی جاتی ہے۔
طبی فوائد اور روایتی استعمال
روایتی طب میں الٹ کمبل کو خاص طور پر خواتین کے امراض میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے نمایاں فوائد درج ذیل ہیں:
1. قلتِ حیض (Amenorrhea)
ایسی حالت جس میں حیض کا باقاعدہ اخراج نہ ہو۔ روایتی اطباء اسے رحم کی تحریک اور ہارمونل توازن کے لیے مفید قرار دیتے ہیں۔
2. بے قاعدہ حیض
اگر حیض کے ایام میں تاخیر یا بے ترتیبی ہو تو اس کا جوشاندہ مفید سمجھا جاتا ہے۔
3. دردِ حیض
رحم کے عضلاتی کھچاؤ میں کمی لانے کے لیے معاون دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
4. بانجھ پن کے بعض معاملات
کچھ روایتی نسخوں میں اسے تولیدی نظام کی بہتری کے لیے شامل کیا جاتا ہے، تاہم یہ استعمال مکمل طبی نگرانی کا متقاضی ہے۔
طریقۂ استعمال
جوشاندہ بنانے کا طریقہ:
- تازہ جڑ کی چھال کو کوٹ لیں
- تقریباً پاؤ بھر پانی میں شامل کریں
- ہلکی آنچ پر جوش دیں
- جب پانی نصف رہ جائے تو چھان کر استعمال کریں
روایتی خوراک:
- خشک چھال: 2 تا 4 ماشہ
- تازہ چھال: 4 تا 8 ماشہ
- تازہ جڑ کا رس: تقریباً 3 ماشہ
- سیال رب: 1 تا 2 ڈرام، دن میں دو مرتبہ قبل از طعام
بعض اطباء خالی پیٹ استعمال کو ترجیح دیتے ہیں، خصوصاً صبح نہار منہ۔
جدید طبی تناظر
جدید دور میں بعض دوا ساز کمپنیاں اس کا سیال رب (Liquid Extract) تیار کر رہی ہیں تاکہ خوراک کی درست مقدار اور آسان استعمال ممکن ہو۔ روایتی مشاہدات کے مطابق حیض کے متوقع آغاز سے دو روز قبل اس کا آغاز کرنا زیادہ مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
تاہم جدید طبی تحقیق ابھی محدود ہے، اس لیے اس کے استعمال سے قبل ماہر معالج سے مشورہ ضروری ہے۔
احتیاطی تدابیر
- حاملہ خواتین بغیر طبی مشورہ استعمال نہ کریں۔
- زیادہ مقدار معدہ اور جگر پر بوجھ ڈال سکتی ہے۔
- کمزور یا دائمی مریض صرف ماہر حکیم کی نگرانی میں استعمال کریں۔
- مسلسل اور طویل استعمال سے پہلے معالج سے مشورہ لازمی ہے۔
No comments found.