مردانہ کمزوری کا مکمل علاج اور رہنمائی
مردانہ کمزوری کیا ہے؟
مردانہ کمزوری جسے میڈیکل زبان میں Erectile Dysfunction کہا جاتا ہے، وہ کیفیت ہے جس میں مرد کو عضو تناسل میں مکمل سختی حاصل نہیں ہوتی یا حاصل ہونے کے بعد برقرار نہیں رہتی۔ اس کی وجہ سے جنسی عمل میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ مسئلہ کبھی کبھار بھی سامنے آ سکتا ہے جو کہ وقتی ذہنی دباؤ، تھکن یا خوف کی وجہ سے ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ مسئلہ بار بار ہو یا مسلسل تین ماہ تک برقرار رہے تو اسے علاج کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ جسمانی یا نفسیاتی خرابی کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔
مردانہ کمزوری کی وجوہات
مردانہ کمزوری مختلف وجوہات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ کچھ وجوہات جسمانی ہوتی ہیں اور کچھ ذہنی یا طرز زندگی سے متعلق۔
جسمانی وجوہات کی وضاحت
کچھ بیماریوں کے باعث عضو تناسل میں خون کی روانی متاثر ہوتی ہے جس سے ایریکشن حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر خون کی نالیوں کو کمزور کرتے ہیں، دل کی بیماریاں بھی خون کے بہاؤ کو متاثر کرتی ہیں جبکہ زیادہ کولیسٹرول رگوں میں چکنائی جمع کرکے خون کا راستہ تنگ کر دیتا ہے۔ اسی طرح اگر جسم میں مردانہ ہارمون ٹیسٹوسٹیرون کم ہو تو جنسی خواہش کم ہو جاتی ہے اور ایریکشن برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ موٹاپا، اعصابی کمزوری اور سگریٹ یا نشہ بھی جنسی صحت کو براہ راست نقصان پہنچاتے ہیں۔
نفسیاتی وجوہات کی وضاحت
کئی بار یہ مسئلہ جسمانی نہیں بلکہ ذہنی ہوتا ہے۔ مسلسل ذہنی دباؤ، ٹینشن، بے چینی، ڈپریشن یا کارکردگی کا خوف مرد کے دماغ کو جنسی ردعمل بھیجنے سے روک دیتا ہے۔ اگر تعلقات میں مسائل ہوں یا خود اعتمادی کم ہو تو بھی یہ مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ذہن سکون میں نہ ہو تو جسم بھی اپنا عمل درست طریقے سے نہیں کر پاتا۔
طرز زندگی کی وجوہات
غیر متوازن اور بے قاعدہ زندگی کا انداز بھی مردانہ کمزوری کو جنم دیتا ہے۔ جو افراد ورزش نہیں کرتے، نیند پوری نہیں لیتے یا فاسٹ فوڈ اور کولڈ ڈرنکس زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں جسمانی کمزوری پیدا ہو سکتی ہے۔ الکحل، نشہ اور فحش مواد کا زیادہ استعمال بھی دماغ کے حساس نظام کو متاثر کرکے ایریکشن میں رکاوٹ بنتا ہے۔
وہ ادویات جو مسئلہ بڑھا سکتی ہیں
کچھ میڈیسن کے استعمال سے وقتی طور پر جنسی کمزوری پیدا ہو سکتی ہے جیسے اینٹی ڈپریسنٹس، اینٹی ہسٹامینز، بیٹا بلاکرز یا بلڈ پریشر کی کچھ ادویات۔ یہ ادویات دماغ یا خون کے بہاؤ پر اثر ڈالتی ہیں۔ اگر کسی شخص کو ادویات کے بعد یہ مسئلہ ہو تو بغیر خود فیصلہ کیے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔ ڈاکٹر مناسب متبادل یا خوراک میں تبدیلی کرکے مسئلہ کم کر سکتا ہے۔
مردانہ کمزوری کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟
ڈاکٹر سب سے پہلے مریض کی میڈیکل ہسٹری، علامات اور طرز زندگی کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ پھر جسمانی معائنہ کیا جاتا ہے تاکہ خون کی روانی، دل کی حالت یا ہارمونل تبدیلیوں کا اندازہ ہو سکے۔ مزید ٹیسٹ جیسے شوگر، کولیسٹرول اور ٹیسٹوسٹیرون لیول چیک کیے جاتے ہیں۔ بعض صورتوں میں نفسیاتی مشاورت کی بھی ضرورت پڑتی ہے اگر وجہ ذہنی ہو۔
مردانہ کمزوری کا علاج
علاج ہمیشہ وجہ کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔ اگر مسئلہ جسمانی ہو تو ادویات، ہارمون تھراپی، انجیکشن یا ویکیوم ڈیوائس مددگار ہو سکتے ہیں۔ شدید کیسز میں سرجری یا پینائل امپلانٹ بھی کیا جاتا ہے۔ یہ سب علاج ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کیے جانے چاہئیں کیونکہ غلط استعمال نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
نفسیاتی وجوہات کی صورت میں کونسلنگ، سیکس تھراپی یا CBT تھراپی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ اکثر مریض صرف ذہنی دباؤ کنٹرول کرنے سے ہی بہتر ہو جاتے ہیں۔
طرز زندگی میں تبدیلیاں سب سے اہم اور محفوظ طریقہ ہیں۔ روزانہ تھوڑی واک یا ورزش خون کی روانی بہتر کرتی ہے۔ صحت بخش خوراک جیسے سبزیاں، پھل اور پروٹین جسم کو طاقت دیتی ہے۔ تمباکو نوشی اور الکحل چھوڑنے سے مردانہ طاقت طبیعی طور پر بہتر ہو سکتی ہے۔ نیند پوری کرنا اور ذہنی سکون برقرار رکھنا بھی لازمی ہے۔
قدرتی علاج
اشوگندھا، جنسینگ، ماکا، ایل-ارجنین اور گنگکو بلوبا جیسے ہربل طریقے کئی افراد میں فائدہ دیتے ہیں لیکن ان کے نتائج فرد کے مزاج اور صحت پر منحصر ہوتے ہیں۔ یوہیمبین جیسے کچھ سپلیمنٹ سائیڈ ایفیکٹس پیدا کر سکتے ہیں، اس لیے کسی بھی جڑی بوٹی یا سپلیمنٹ کے استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
گھر بیٹھے بہتری کے عملی طریقے
اگر روزانہ واک کی جائے، چکنائی کم اور صحت مند غذا اپنائی جائے، خشک میوہ جات اور پروٹین شامل کیا جائے تو جسم میں توانائی بڑھتی ہے۔ کولڈ ڈرنکس اور فاسٹ فوڈ کا کم استعمال جسمانی اور جنسی صحت دونوں کے لیے بہتر ہے۔ شادی شدہ زندگی میں گفتگو کو بہتر بنانا اور ذہنی دباؤ کم رکھنا بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ فحش مواد سے اجتناب کرنے سے دماغ جنسی تحریک کو قدرتی انداز میں قبول کرتا ہے اور ایریکشن بہتر ہو سکتا ہے۔
غلط فہمیاں اور حقیقت
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ بڑھاپے میں علاج ممکن نہیں، حالانکہ مناسب علاج اور صحت مند رُٹین سے بڑے عمر کے افراد بھی بہتر کارکردگی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ غلط تصور بھی عام ہے کہ یہ صرف نفسیاتی مسئلہ ہے، جبکہ زیادہ تر کیسز میں جسمانی وجوہات شامل ہوتی ہیں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف ویاگرا ہی حل ہے، جبکہ بہترین نتائج طرز زندگی میں تبدیلی اور ڈاکٹر کی نگرانی میں علاج سے حاصل ہوتے ہیں۔ طاقت کے نسخے فوری فائدہ دے سکتے ہیں لیکن زیادہ استعمال نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔
کب ڈاکٹر سے رجوع ضروری ہے؟
اگر مسلسل تین ماہ تک ایریکشن برقرار نہ رہے، صبح کا نیچرل ایریکشن آنا رک جائے یا شوگر و بلڈ پریشر قابو میں نہ ہو تو ڈاکٹر سے ملاقات ضروری ہے۔ اسی طرح اگر جنسی خواہش میں واضح کمی ہو یا عضو تناسل میں درد یا ٹیڑھا پن محسوس ہو تو تاخیر نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ بروقت تشخیص اور علاج زندگی میں اعتماد اور ازدواجی خوشی واپس لا سکتا ہے۔
No comments found.